ابنا: گذشتہ شب ایک ٹیلی فون بات چیت میں دونوں صدور نے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے بغیر کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو کسی بھی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شام پرفوجی حملہ روکنے اورعوام کو نقصان پہنچنے سےروکنے کےلئے ہرممکن کوشش پرتاکیدکی۔ ڈاکٹرحسن روحانی اور روسی صدر پوٹن نے شام کے بحران کو صرف سفارتی ذرائع سے حل کر نےپر زور دیا. ایران کےصدر ڈاکٹرروحانی نے شام پرمغربی ممالک کےممکنہ حملوں سےمتعقل خبروں کوتشویشناک قراردیا اور کہا کہ شام اسٹریٹیجک اورحساس پوزیشن کاحامل ہے اوراس پرکسی طرح کی فوجی جارحیت پورے مشرق وسطی میں عدم استحکام کا باعث ہوگا۔ صدر روحانی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظرمیں کیمیاوی ہتھیاروں کااستعمال قابل مذمت ہے چاہے وہ کہیں بھی کسی کی طرف سے ہوکہا کہ مسئلہ واضح ہونے سےپہلے کسی بھی طرح کا فیصلہ قبل ازوقت اور خطرناک ہوگا۔ صدرمملکت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ چونکہ شام نے گذشتہ دنوں دہشتگردوں کےمقابلے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں اس لئے مغربی ممالک حالیہ واقعات کو بہانہ بنا کرایسے حالات پیدا کرناچاہتے ہيں کہ یہ حکومت آئندہ مذاکرات میں کمزور موقف کی حامل ہو۔ اس موقع پرروس کےصدر ولادیمیر پوتین نے بھی کہا کہ روس بھی ہرطرح کےمہلک ہتھیار بالخصوص کیمیاوی ہتھاروں کےاستعمال کو ناقابل قبول سمجھتا ہے چاہے وہ کہيں بھی ہو اورکسی کےہاتھ سےکیوں نہ ہو۔ روسی صدر نے کہا کہ اب تک کوئی بھی ایساثبوت نہيں ملا ہے جس سےثابت ہوتا ہوکہ شام کی سرکاری فوج نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں کیونکہ ایسی حالت میں جب وہ پیشرفت کررہی ہے اور برترپوزیشن میں ہے تو بنیادی طور پر اسے اس کی ضرورت نہيں ہے۔
.......
/169